Z

آ سُن لے ذرہ اُس وادئ کشمیر کا فسانہ

کہتے تھے لوگ جسے جنّت کا  خزانہ 
آ سُن لے ذرہ اُس وادئ کشمیر کا فسانہ
چھن گئے بھائی تو  کہیں چھینی بینائی
حالِ دل کس کو سُنائیں، ڈرتا ہے زمانہ 
آپس میں لڑواکر غیروں کے بھینٹ چڑھے
 غیر بھی کیا تھے جو سمجھا ہمیں کھلونا
نہ تہذیب بچی ہماری نہ مذہب کا پاس رہا
آ سُن لے ذرہ  اُس وادئ کشمیر کا فسانہ
(بقیہ آئندہ)
©zahidahmad