بے بسی کی تصویر بن بیٹھا ہوں کب سے
کوئی ہو جو کاٹے چکر عجائب گھر کا میرے
رنگریز ، کر رحم ، کچھ کر لے ادھار
تھوڑے ہی سہی، تھوڑے رنگ بھر دے میرے
سنتے ہیں کہ کرتے تھے رشک وہ بھی کبھی
اب فقط کھاتے ہیں ترس ہشر پہ میرے
وقت برا تھا کہ بھلا ، گزر تو گیا
ویرانیوں کے بادل رہے گھنے در پہ میرے
تو اب تک نہ کر پایا فیصلہ آنے کا
سنگ تیرے گزرا ہے اک جنم شہر میں میرے
خود آتے تھے آرزوئے گفتگو لے کر محفل میں
اب جاؤں تو ڈر بھاگتے ہیں وہ قہر سے میرے
~ذریہ
Feb 20, 22.
©zuriasays
Z