دل پر دستک دیتی ہے اک صدا
جو کانوں کو سنائی نہیں دیتی
محسوس ہوتی ہے وجود کے محور میں
کہاں سے آئی ؟ دیکھائی نہیں دیتی
اک سحر جکڑ لیتا ہے اپنے آپ میں
قربت وہ پھر تنہائی نہیں دیتی
اک نور کی تجلی ٹکراتی ہے دل سے
کچھ ہوش پھر سجھائی نہیں دیتی
معرفت_لطیف ہوئی الحام کی صورت
حیرت ! مگر قوت_گویائی نہیں دیتی
ہر دل اسی کے ذکر میں دھڑکتا ہے
سماعتوں کو آواز سنائی نہیں دیتی
©mubeen
M