M

ضمیر

دکھاوے کی محبت دکھانے میں اس کے گھر گیا
وعدہ کر کے وہ بھی وعدے سے مکر گیا
گھر سے نکلا تو آغاز کیا میں نے
جھوٹ بولتے بولتے واپس میں گھر گیا
بے حس تھے یا بہرے تھے اس بستی کے لوگ
روٹی مانگتے مانگتے اک فقیر مر گیا
ہوس زدہ آنکھیں ہیں برہنہ جسم پر
قتل ہو جاتے ایسی بے ہودگی پر
یہ تو اچھا ہوا کے لوگوں کا ضمیر مر گیا
اک فاقہ کش کی موت پے
میں نے اتنا کھایا کہ پیٹ بھر گیا
طاقت نہیں رہی اب گناہ کرنے کی مساؔح
لوگوں سے کہتا ہوں کہ میرا دل بھر گیا
..
©massah