K

دوست

دوست
دوست وہ جو وقت کے طوفان میں چھاؤں بن جائے
ہنسی میں شریک، غم میں دعاؤں بن جائے۔

چپ کی زبان سمجھے لفظوں کے بنا بولے
اندھیری رات میں جگنو کی روشنی تولے۔

نہ رتبہ دیکھے نہ دولت نہ چہرے کی رونق
محبت سے بھر دے دل یہی ہے اس کی صداقت۔

وقت بدلے فاصلے آئیں مگر دل نہ بدلے
سچا دوست وہی ہے جو خوابوں میں بھی ساتھ چل دے۔
دوست