اک بات ہے حقیقت جو ثمر بار ہے
جلدی سے تو سنبھل جاتیرا اختبار ہے
مدد کرو تیری پر یہ تو جان لے لو ںں
جس کے ہیں ہم پیچھے اسے اعتبار ہے
لگتا ہے تو ثمر اعمال کا میرے
یہ سوچ ہے میری کہ تیرا اجبار ہے
پہنچا میں ایک جگہ دربار پر وجاہت
سنا یہاں ہر طرف ہی تیرا غبار ہے
©wajibutt
W