کیا ان کی آنکھیں تو کیا بال ہیں
چہرا ان کا سفید اور گال لال ہیں
باتیں انکی میٹھی میٹھی ہیں
ادائیں ان کی کمال ہیں
ہونٹ ان کے ہیں گلاب جیسے
نزاکت میں پھول کی مثال ہیں
ہاتھ ان کے کمل جیسے ہیں
دکھنے میں حسین و جمال ہیں
ہر بات یاد ہے ان کی مجھے
ملے ان کو گزرے سال ہیں
ہمیں وہ خود سا کہتے ہیں
مگر ہم جنوب وہ شمال ہیں
کوئی پیغام نہیں آیا انکا کبھی
ناجانے ان کے کیا حال ہیں
ہم ان کو کیسے بھول جائیں
وہ تو ہمارا قیمتی مال ہیں
ذوہیب ہم ان کی بات کر رہے ہیں
جو ہمیں چھوڑ کر بھی بحال ہیں
©zoaibpoet
Z