ہم ہر روز قسمت سے ہار جاتے ہیں
تیری یاد میں ہی رات گزار جاتے ہیں
اب تو کہتے ہیں یا قسمت بدل جائے یا محبوب
سن کہ ,,نیند میں بھی تجھے پکار جاتے ہیں ،،
جب تجھے یاد کرتے ہیں
تو لکھے اشعار جاتے ہیں
تیرا انتظار اور کتنا کریں ہم
کئیں گزرے تہوار جاتے ہیں
ہر وقت تیرے ہی ذکر کے بحث
ہم سے چلے دور دوست یار جاتے ہیں
لکھتے ہیں خط تجھے اور پھر بھیجتے نہیں
وہ سب خط بے کار جاتے ہیں
اک تیری الفت کے سبب
دل سے اتر خمار جاتے ہیں
تیری یاد میں جو لکھے جاتے ہیں اشعار
وہ ذوہیب کو کیے باوقار جاتے ہیں
©zoaibpoet
Z