Z

غزل

کبھی ہم تیرے انتظار میں تھے
آج تجھے انتظار ہے تو کیا ہوا
کبھی ہم تیرے گناہ گار تھے
آج توں گناہ گار ہے تو کیا ہوا
کبھی سبھی غم تھے ہمارے سنگ
آج تجھے بے شمار ہیں تو کیا ہوا
کبھی ہمیں حاجت اک نگاہ کی ہوتی تھی
آج توں دکھنے کو بے قرار ہے تو کیا ہوا
کبھی ہم محبت کا فسانہ لیے تھے
آج توں صاحب اظہار ہے تو کیا ہوا
کبھی ہم تیرے غلام سے ہوا کرتے تھے
آج توں خدمت گزار ہے تو کیا ہوا
پاکیزہ محبت کی تجھے قبول نہ تھی
آج توں بوسہ رکسار ہے تو کیا ہوا
کبھی ہم تجھ سے کم تر تھے
آج اونچا میار ہے تو کیا ہوا
کبھی ذوہیب کو خاص نہیں سمجھے
آج توں بے کار ہے تو کیا ہوا
©zoaibpoet