فصل کاٹیں گے بھی تو کیسے
پودے اُگتے ہی مُرجھا گئے ہیں
ساتھ اُن کا دیں گے بھی تو کیسے
جو ہمیں زہر پلا کر سُلا گئے ہیں
اُن دوستوں سے دوستی رکھیں بھی تو کیسے
جو کانٹا بن کر چبھا گئے ہیں
اُن سوالوں کا جواب دئے بھی تو کیسے
جو خود میں اور سوال اُٹھا گئے ہیں
مصیبوں سے نجات ملے گا بھی تو کیسے
جو اپنے اسلام کو بُھلا گئے ہیں
ماؤں بہنوں کی حفاظت ہوگی بھی تو کیسے
جو سرِ عام اپنی اُوڑھنی اُٹھا گئے ہیں
نوجوانوں کو راہت ملے گی بھی تو کیسے
جو اپنے والدین کو ستا گئے ہیں
لیڈر انقلاب کے دعوے دار ہونگے بھی تو کیسے
جو غریبوں کی دولت لٹا گئے ہیں
اپنے گھروں میں سکون آئے بھی تو کیسے
جو گھر کو سود سے بھرا گئے ہیں
اُستاد سے اُمید اب رکھیں بھی تو کیسے
جو دولتِ علم کو تجارت بنا گئے ہیں
وکلاء مسائل حل کریں گے بھی تو کیسے
جو خود اپنے مسائل میں اُلجھا گئے ہیں
اس دنیا میں آواز اٹھیں گے بھی کیسے
جو خبر غدّار ظالموں کو بتا گئے ہیں
قوم کے مفاد کی خاطر لڑیں بھی تو کیسے
جن سے ہم کئی بار دھوکہ کھا گئے ہیں
اُن لوگوں سے لڑیں گے بھی تو کیسے
جو ہمارے یار کو اب مٹا گئے ہیں
ضمیر سے آواز اب آئے گی بھی تو کیسے
جو سیاہی دل کو ہم لگا گئے ہیں
اُن سے عشق کے دعوے کریں گے بھی تو کیسے
جو اُن کی دعوت کو ہم بھلا گئے ہیں
مست و مگن کام میں اپنے رہو اے زاہد!
حالات ہم سے یہی سب بتا گئے ہیں
©zahidahmad
Z