M

کبھی کبھی

بادل تو کبھی آتے ہیں مگر برسات نہیں ہوتی
دل جلتے ہیں آگ کی طرح مگر واردات نہیں ہوتی
دل تڑپتا رہتا ہے مگر شروعات نہیں ہوتی
ہمیں امید ہوتی ہے مگر بات نہیں ہوتی
دن میں بھی خواب دیکھتا ہوں بے ہوش ہوکر
سویا رہتا ہوں خوابوں میں مگر رات نہیں ہوتی
کبھی سوچتا ہوں کہ دیدار ہو گا ضرور
تیاری کرتا رہتا ہوں مگر ملاقات نہیں ہوتی
یہ معاملہ بہت ہی مشکل اور حد سے باہر
کبھی حل ہو جائے گا ابھی مگر سہولیات نہیں ہوتی
دیدار کہاں ہوگا اس طرح ہمیں ابھی
جاننا چاہتا ہوں کبھی کبھی مگر تحقیقات نہیں ہوتی
شکل و صورت بھول گئے ڈھونڈیں اب کہاں
تلاش تو کرتے ہیں اُسے مگر معلومات نہیں ہوتی
©muneer