" خدا سے"
اجازت ہو تو اک عرض_ تمنا کرلیں
خود کو تجھ میں فنا کر لیں
یہ زہد یہ عبادت کس کی ہو قبول؟
جی چاہتا ہے عشق میں انتہا کر لیں
یہ خود فریبی یہ چکا چوند دنیا
کوئی مجھ سے لے تو تجارت کر لیں
تپتے ہوئے صحرا میں پاوٴں جلتے ہیں
ہو ایمان ایسا اس کو گلستاں کر لیں
مکاں اور لامکاں کی دیوار میں بند دروازە
جو کھلے تو لامکاں کی سیر کر لیں
آرزو نہیں قطرے کو گہر بننے کی
بس بحر_ بیقراں میں خود کو فنا کر لیں
©mubeen
M