M

خواب اور خاک

خواب اور خاک

محمد مسعود نوٹنگھم یو کے

یہ کیسا رَبط ہے، ہر شے سے اب ہوئے ہیں جُدا کیا

خوشی کی کوئی کرن ہم کو دے گی اب تو صَدا کیا

جو داغ دل کو ملے ہیں، وہ زخم گہرے ہیں

ہر اِیک نِشاں پہ کریں، کِس طرح سے ہم یہ خَطا کیا

مسعود، اپنے ہی ہاتھوں سے کھو دیا سب کچھ

یہی نصیب کی لکھی ہوئی تھی ہم پر بَلا کیا

اُداس شامیں ہیں سُنسان ہے یہ دُنیا بھی

بدل گیا ہے ہمارا عجیب سارا سَماں کیا

سَمیٹ رکھے تھے جتنے بھی خواب، سب ہی تو

سپردِ خاک کر دیے، بس اِسی میں اپنی فَنا کیا