Z

ملتے ہیں کچھ غیر لوگ اپنا بنانے کے لیے ہیں

اس کی نظروں نے کیا غائل
میرا دھڑکا ہوکر پاگل
ذیادہ دیر اس کی آنکھوں میں دیکھ نہ سکا
کچھ اس طرح ہوئ مجھ میں حل چل
پھر پلٹ کر خود کو کوسا
کہا "میں ہوں ہی کائل "
خود کو کبھی نہ تلاش سکا جو شخص
وہ کرنے چلا تھا کسی اور کو حاصل
بے پردہ جسم مجھے دیکھائی نہ دیے
مگر پردہ میں دکھ گئ اس کی سمائل
وہ میرے دل میں نہ تھی ابھی مگر
میری شاعری میں ہوگئی شامل
وہ نہ تھی قریب تو اس کے خیال تھے اس کے قریب ہونے پر کوئ خیال نہ رہا
وہ جو نامحرم ہوکر بھی محرم لگی ذوہیب کے لیے بہت خاص تھی وہ گرل
©zoaibpoet