M

متاعِ دل کو بیچنے والے

متاعِ دل کو بیچنے والے

شاعر محمد مسعود نوٹنگھم یو

وہ رشتۂ قدیم اب بھی رنج سہتا ہے

جو اپنی عمر کا ہر پل دعا میں بہتا ہے

​جو شاخِ صبر پہ تھا پھل کے سایہ دار ہوا

وہی ہے آج، جو طعنوں کو چپ سے سہتا ہے

​سنا تھا جس کے لیے خود کو مٹا دیا تھا کبھی

وہی چراغ اب آشیاں کو جلا کے رہتا ہے

​وہ گھر جو پیار کی بنیاد پر کھڑا تھا کبھی

وہی مکاں ہے جو نفرت کا بار اُٹھاتا ہے

​دعا کی لَو سے تھا جس کا وجود روشن تر

وہی وجود ستم کی سزا میں لپٹا ہے

​مسعود، اس کی تباہی کا کیا بیاں کرنا

جو اپنے والدین کا دل دُکھا کے جیتا ہے

متاعِ دل کو بیچنے والے کی یہ غزل ان اولادوں کی ناشکری اور بے حسی کو بیان کرتی ہے جو اپنے محسن والدین پر ظلم کرتے ہیں۔ شاعر ( محمد مسعود ) اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ والدین کا قدیم رشتہ، جو زندگی بھر دعاؤں میں گزرا، اب بھی اولاد کے ظلم کا دکھ سہہ رہا ہے۔ یہاں صبر کی شاخ کو اولاد سے تشبیہ دی گئی ہے، جس نے والدین کی محنت سے بڑا ہو کر سایہ دینا تھا، مگر وہی آج والدین کو طعنے دے کر خاموشی سے دکھ سہنے پر مجبور کر رہا ہے۔ یہ سب سے بڑا تضاد ہے کہ جس اولاد کے لیے والدین نے خود کو فنا کر دیا تھا، وہی چراغ اب ان کے محبت کے آشیانے کو جلا رہا ہے۔ جس گھر کی بنیاد پیار اور شفقت پر تھی، اب وہی مکان نفرت کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) افسوس کرتا ہے کہ وہ اولاد، جس کا وجود والدین کی دعاؤں کی روشنی سے روشن تھا، اب اپنے ہی ظلم کی سزا میں لپٹا ہوا ہے۔ آخری شعر میں شاعر ( محمد مسعود ) نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ اس شخص کی تباہی یقینی ہے جو اپنے والدین کا دل دکھا کر زندگی گزارتا ہے۔ یہ غزل احسان فراموشی، دکھ اور بد قسمتی کا ایک کربناک منظر پیش کرتی ہے۔
متاعِ دل کو بیچنے والے