میں نادان گڑیا تیرى
تیری انگلی تھام کے سو تی تھی
تو دور جو مجھ سے ہوتی تھی
مین تڑپ تڑپ کے روتی تھی
زندگی کا ایک نیا سبق
تو روز مجھے سناتی تھی
جب ڈرتی تھی میں راتوں کو
تو سنگ اپنے سلاتی تھی
ماں تو نے کتنے برسوں تک
اس نادان کو سمجھایا تھا
جیون کے گہرے را ز وں کو
باتوں باتوں میں سمجھا يا تھا
میں تیری یاد کے پنوں کو
ہر پل پڑھتی رہتی ہوں
ماں میں نادان گڑیا تیری
تیری یاد میں ہر پل روتی ہوں
الفت امين
©Ulfat Amin
U