ہزار باتیں کہے زمانہ،
مری وفا پر یقین رکھنا
ہر اک ادا میں ہے بے گناہی،
مری ادا پہ یقین رکھنا
مری محبت کی زندگی کو،
نظر نہ لگ جائے اس جہاں کی
یہی صدا ہے دھڑکتے دل کی،
مری صدا پہ یقین رکھنا
کسی کو ہنستا نہ دیکھ پائے،
عجیب شے ہے یہ بیری دنیا
یہ بے مروّت ہے، بے وفا ہے،
نہ بے وفا پہ یقین رکھنا
نظر میں رہنا ہے خوش نصیبی،
نظر سے گرنا ہے بے حیائی
حیا ہے عورت کا ایک گہنا،
مری حیا پہ یقین رکھنا
©mudassir
M