مانندِ پہاڑ سینہ سپر ہوں میں
تیری ہر چال سے باخبر ہوں میں
جان کر ہتھکنڈے تیرے خاموش ہوں
اس کے معنی کہاں کہ بے خبر ہوں میں
تیری خاطر قربان کیے سبھی بندھن
پھر بھی نظر میں تیری ستمگر ہوں میں
صداقت سے لو لگانا صفت کڑوی ہے میری
وجہ یہی ہے کہ تیرے نشانے پر ہوں میں
جدا تجھ سے کوسوں دور ہوں پھر بھی
خوش مگر گام بہ گام ڈگر ڈگر ہوں میں
شیدا بہت ہیں میرے سبب خلوصِ نیت کے
نظر میں تیری اکیلا اگر ہوں میں
مزاحمتِ رقیباں مجھے روکے کیا بیباکؔ
برے کو تو برا کہنے کا خوگر ہوں میں
©riazahmed
R