W

انتظار

یہ تیری بات باعثِ انتشار ہے
لیکن میرے یار مجھے تم پر اعتبار ہے
جو بھٹک کر راہوں پر تلاش کریں منزل
آخر وہ شخص ذلیل و خوار ہےے
بے وفا بے وفائی کے گن کبھی بھولے
ایسا نہیں انہیں بےوفائی کا بخار ہے
آخر تو حق ہے زندگی کی حد بھی
یہ زندگی اعمالوں کا دارومدار ہے
وجاہت شکنجے میں پھنس گیا شکار ہے
بس میرے ہمدم تیرا انتظار ہے
©wajibutt