پہلے دل تسلیم کرے ذات_کیبریائی
پھر آسمان کھول دیتا ہے در_ شفائی
عقل عاجز ہی رہی وسعت_کائنات میں
عشق نے پائی ہے معراج_ مصطفائی
الحام ہوتےہیں علم و معرفت کےخزانے
کئ راز کھلتے ہیں با قیام_سحرگاہی
دل کی عبادت ہے ذکر میں دھڑکتے رہنا
روح کی عبادت ہے نظارہء نور_زیبائ
فلسفہ اک پروانہ تاریکي میں بھٹکتا هوا
غزالی نے اس کے آگے شمع ء توحید جلائی
موسی تقاضا کرکے ہوش سے بیگانہ ہوئے
سرمستئ شوق میں طور نے آنکھ نہ اٹھائی
©mubeen
M