سکوں غم شدہ
یوں عشق میں دل کو سکوں اب نہ ملے گا
شاید کبھی ایسا جنوں اب نہ ملے گا
کچھ اور طلب کر کہ یہ دنیا کا خزانہ
جو چاہیے وہ تُجھ کو فزوں اب نہ ملے گا
اِیک آگ ہے سینے میں، بھڑکتی ہے مسلسل
دُھواں ہے میرے دل سے بروں اب نہ ملے گا
مانا کہ یہ دنیا ہے سَرابوں کا سمندر
اُس پار کوئی شہرِ دروں اب نہ ملے گا
مسعود جو تو نے کسی کو سنایا یہ فسانہ
پھر مجھ سا کوئی رنج کے خوں اب نہ ملے گا
وہ جانِ غزل، وہ ستم آرا، وہ سُخن ور
جس کی ہے تمنّا، وہ کنوں اب نہ ملے گا
سکونِ گم شدہ یہ غزل دراصل مایوسی، کھو جانے کے احساس اور حقیقی تلاش کا ایک بیانیہ ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) اعتراف کرتا ہے کہ اب عشق کی دنیا میں دل کو وہ پہلا سکون اور جنون دوبارہ نہ ملے گا۔
شاعر ( محمد مسعود ) دنیاوی چیزوں کی بے ثباتی کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اِس فانی دنیا کے خزانوں میں وہ دائمی راحت یا فزوں (زیادتی/بڑھوتری) نہیں ملے گی جس کی سچی طلب ہے۔ دل میں جلنے والی آگ اور اس کا دھواں مسلسل عذاب کا اشارہ ہے، جس سے چھٹکارا نہ ملے گا۔
یہ دنیا ایک سَراب ہے، اور سچی منزل (شہرِ دروں) کی امید اب باقی نہیں رہی۔ شاعر ( محمد مسعود ) مقطع میں اپنا تخلص استعمال کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر اُس نے اپنا غم کسی کو سنایا تو پھر ایسا گہرا رنج یا خوں (شدتِ غم) کسی اور کو نہ ملے گا۔ آخری شعر میں شاعر محمد مسعود نوٹنگھم اپنی محبوب شخصیت (جانِ غزل) کے دور ہو جانے کا غم بیان کرتا ہے کہ اب اُس مطلوبہ شے کی تمنّا پوری نہ ملے گی۔