P

تتلیوں کے دیس میں

تتلیوں کے دیس میں
یوں ہی چلتے چلتے
اک اجنبی سا ہمسفر
اس قدر قریب ہوا
خواب سا وہ منظر تھا
اس حسیں مسافت میں
دلنشین رفاقت میں
اک ایسا موڑ آ یا
راستے بچھڑ گئے
خواب سا وہ منظر تھا
پھر بس یوں ہوا
منظر سار ے بدل گئے
خواب سارے بکھر گئے
تتلیاں بھی مر گئ
خواب سا وہ منظر تھا
شاعرہ صباء نور
©pakfairy