کل جو اک اجنبی نے پوچھا
مجھ سے حال دل مرا
تو حال اپنے پہ غور کیا
اور کچھ گزرے ہوئے پر بھی
اس ذہن کو کچھ بھی یاد نہیں
پر یاد ہے تو وہ اک یاد تری
جو ذہن کی کچی گلیوں میں
تیرے نقش پا کی صورت ہے
ان خستہ حال سی گلیوں سے
تیرا گزر ہوتا ہے روزانہ
جیسے گزرتے ہیں سال اور دن
تو تھکتا ہے، رک جاتا ہے
پھر اٹھتا ہے، چل پڑتا ہے
پر دل یہ مرا سوچ کے رکا
کہ تو بھی ہے اب تھک چکا
تو چاہتا ہے آزاد کرے
دل کو پھر سے آباد کرے
کسی کے حسن خیال سے
پر لوٹ آتا ہے اسی ملال سے
ان گلیوں کے اک کونے میں
چھوٹے سے اک دریچے پر
جسے میں یاد کہتا ہوں
28/07/2022
©zuriasays
Z