زخموں کی تنہائی
شاعر: محمد مسعود نوٹنگھم یو کے
میں نے اپنے دکھ
کسی کی ہتھیلی پر نہیں رکھے،
میرے آنسوؤں نے بھی
کسی کا راستہ نہیں پوچھا۔
میں ٹوٹتا رہا اندر ہی اندر،
مگر کسی کو خبر نہ ہونے دی
کہ دل کس قدر لہو لہان ہے۔
راتیں میرے دکھوں کی گواہ ہیں،
جب خاموشی بھی چیخ بن جاتی ہے،
اور سانسیں بوجھ لگنے لگتی ہیں۔
میں نے تکلیف کو اوڑھ کر سونا سیکھا،
اور آنسو پی کر جینا سیکھا۔
لوگ گلے لگاتے ہیں
تو زخم بھر جاتے ہیں،
مجھے گلے لگانے والا
میرا اپنا سایہ بھی نہ ملا۔
میں خود ہی اپنے بکھرے وجود کو
سمیٹتا رہا،
خود ہی اپنے ٹوٹے خواب دفن کرتا رہا۔
مسکراہٹ میرے چہرے کا فریب ہے،
اس کے پیچھے صرف سسکیاں ہیں،
ٹوٹے ہوئے لفظ ہیں،
اور ایک خاموش چیخ ہے
جو ہر لمحہ مجھے توڑتی رہتی ہے۔
اسی ٹوٹتی سانس کے آخر میں
ایک نام سلگتا رہتا ہے مسعود
یہ نظم ایک ایسے شخص کی اندرونی تنہائی، چھپے ہوئے دکھ اور خاموش تکلیف کی عکاسی کرتی ہے جو اپنے زخم دنیا سے چھپا کر جیتا ہے۔ شاعر محمد مسعود اپنے آنسوؤں اور درد کو کسی کے سامنے ظاہر نہیں کرتا بلکہ اندر ہی اندر ٹوٹتا رہتا ہے۔ راتیں اس کے غم کی گواہ ہیں جہاں خاموشی چیخ میں بدل جاتی ہے اور سانسیں بوجھ محسوس ہوتی ہیں۔ وہ دکھ کو اوڑھ کر سونا اور آنسو پی کر جینا سیکھ چکا ہے۔ لوگوں کو گلے ملنے سے تسلی ملتی ہے، مگر اسے سہارا دینے والا کوئی نہیں، حتیٰ کہ اپنا سایہ بھی ساتھ نہیں دیتا۔ وہ خود ہی اپنے بکھرے وجود کو سمیٹتا اور ٹوٹے خواب دفن کرتا ہے۔ اس کے چہرے کی مسکراہٹ محض ایک فریب ہے جس کے پیچھے سسکیاں، ٹوٹے لفظ اور خاموش چیخ چھپی ہوئی ہے۔ نظم کے آخر میں ایک نام “مسعود” دل کی سلگتی ہوئی کیفیت کی علامت بن کر ابھرتا ہے، جو شاعر محمد مسعود کے درد کی آخری بازگشت ہے۔