M

زندگی کے نام

زندگی کے نام

شاعر محمد مسعود نوٹنگھم یو کے

یہ میرا پیار ہے یا کوئی عجب سحر ہے،

لکھ رہا ہوں ہر اک پل زندگی کے نام۔

تو نے بخشا ہے جو یہ روشنی کا سفر ہے،

میرا ہر سانس ہے اب زندگی کے نام۔

ہجر کی رات ہو یا وصل کا پہر ہے،

تیرا ہی ذکر ہے ہر دم زندگی کے نام۔

اب نہیں کوئی خوفِ زوال دل میں میرے،

تیری قربت ہے فقط زندگی کے نام۔

تیری تصویر کو رکھّوں گا سنبھال کر میں،

میری ہر ایک یاد ہے زندگی کے نام۔

کیا کہوں اب اس سے بڑھ کر کیا قمر ہے،

میری ہر سوچ، میری لوح ہے زندگی کے نام۔

زندگی کے نام یہ غزل ایک ایسی ابدی محبت کا اظہار ہے جو ہر لحاظ سے زندگی کا مرکز بن چکی ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) اپنی محبت کو محض ایک جذبہ نہیں، بلکہ ایک "عجب سحر" عجیب جادو قرار دیتا ہے، اور ہر لمحے کو اسی "زندگی کے نام" معنون کرتا ہے۔ غزل میں یہ احساس نمایاں ہے کہ اس محبت کی بدولت شاعر مسعود کو "روشنی کا سفر" نصیب ہوا ہے، اور اب اس کا ہر "سانس" اور ہر "ذکر" محبوب کے لیے وقف ہے۔ ہجر یا وصل، ہر حال میں محبوب کی یاد دل میں بسی ہے۔ اس لازوال تعلق نے شاعر کے دل سے "خوفِ زوال" ختم ہونے کا ڈر کو مٹا دیا ہے۔ خلاصہ یہ کہ یہ اشعار نہ صرف محبت کے گہرے، ذاتی تجربے کو بیان کرتے ہیں بلکہ اسے ایک ابدی حقیقت کی صورت دیتے ہیں۔ غزل کا آخری تاثر یہ ہے کہ شاعر ( محمد مسعود ) کی ہر "سوچ" اور وجود کی ہر علامت اسی لا محدود محبت کی ملکیت ہے۔