اس شہر کا ہر باسی بڑا پریشان نظر آتا ہے
اس شہر کا ہر کونا بڑا ویران نظر آتا ہے
خوف کا عالم ہے, اک مرض کا چرچا ہے
یہ شہر بڑا اب سنسان نظر آتا ہے
پردیسیوں کا مسکن تھا, روزگار کا زریعہ تھا
مگر اب تو یہ وباء کا شکار نظر آتا ہے
اس شہر کا ہر باسی بڑا پریشان نظر آتا ہے
قدرت کے نظارے, فلک شگاف دیواریں
بنی نوع کی راہ میں بے تاب نظر آتے ہیں
شہرِ جدائ سے وابستہ ہر یاد کو سوچ کر واصف
میرا دل حیران نظر آتا ہے
اس شہر کا ہر باسی پریشان نظر آتا ہے
©wasif
W