رحمت پسند نہی گھر مین گھومتی ھوی
بیوی زرور مگر چاھتا ھے وہ
شولو کی بارش واجب تھی ھم پے
ایک وبا پے ہار مانگ لی ھم نے
عزتے نیلام کی اور پہر بی اشرف
یے انصاف تو میرے دیس کا لگتا ھے مجھ
رحمت کو کالی کہا ایک قاضی نے
کسی جوان کے جسم کے خاطر اس نے
©akn
A